بانسواڑہ میں اردو سائن بورڈز کی عدم موجودگی پر احتجاج کا انتباہ

 

(بانسواڑہ احمد محی الدین کی رپورٹ) 

تلنگانہ میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہونے کے باوجود بانسواڑہ کے سرکاری دفاتر میں اسے نظر انداز کیے جانے پر بی آر ایس قائد شیخ اکبر نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے بیشتر سرکاری محکموں کے سائن بورڈز پر صرف تیلگو اور انگریزی درج ہیں جبکہ اردو کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے، جو کہ حکومت کی پالیسی کے خلاف ہے۔

شیخ اکبر نے نشاندہی کی کہ متحدہ ضلع کے دیگر علاقوں جیسے کاماریڈی اور نظام آباد ،بودھن میں سرکاری دفاتر پر تیلگو اور انگریزی کے ساتھ اردو بھی تحریر کی گئی ہے، لیکن بانسواڑہ میں متعلقہ عہدیداران دانستہ طور پر اردو کو نظر انداز کر رہے ہیں، حالانکہ یہاں اردو ایک عام فہم اور مستعمل زبان ہے۔اور شہر میں اوردو داں کی کا فی تعداد موجود ہے انہوں نے مزید کہا کہ بی آر ایس دورِ حکومت میں اردو کے فروغ کے لیے کایی اقدامات کیے گئے تھے، اور کلکٹریٹ میں اردو آفیسر کا تقرر بھی عمل میں لایا گیا تھا، تاہم موجودہ حالات میں اردو کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔

انہوں نے مختلف سرکاری دفاتر جیسے سب کلکٹر آفس ،سب رجسٹرار آفس، میونسپل آفس، ایم آر او، ایم پی ڈی او، منڈل ایجوکیشن آفس، آر ٹی سی بس اسٹانڈ ، آر ٹی سی بسوں کےنام پلیٹ پر بھی اوردو موجود نہیں ہے،اور دیگر محکموں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان تمام مقامات پر اردو سائن بورڈز غائب ہیں۔ شیخ اکبر نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر تمام سرکاری دفاتر پر اردو کو لازمی طور پر شامل کیا جائے، بصورت دیگر حکام کو یادداشت پیش کی جائے گی اور اگر اس کے باوجود کارروائی نہ ہوئی تو بڑے پیمانے پر دھرنا منظم کیا جائے گا۔

Post a Comment

Previous Post Next Post