سینئر صحافی ینداموری ورا پرساد کا بعمر 58 سال انتقال
صحافتی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر، TUWJ (IJUصدر رجنی کانت کا اظہار تعزیت
بانسواڑہ شہر کے معروف و سینئر صحافی ینداموری ورا پرساد (58 سال) کا آج ہفتہ کی دوپہر مختصر علالت کے بعد انتقال ہوگیا۔تفصیلات کے مطابق مرحوم گزشتہ کئی روز سے گردوں کے مرض میں مبتلا تھے اور حیدرآباد کے نیمس ہاسپٹل میں زیر علاج تھے۔ طبیعت زیادہ ناساز ہونے پر انہیں بانسواڑہ واپس لایا گیا تھا جہاں انہوں نے اپنے مکان پر آخری سانس لی۔ مرحوم کے انتقال کی خبر عام ہوتے ہی ضلع بھر کے صحافتی و سیاسی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔بتایا جاتا ہے کہ مرحوم نے سال 2002 میں روزنامہ آندھرا جیوتی سے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز کیا تھا اور طویل عرصہ تک ساکشی، آندھرا جیوتی اور سوریہ جیسے موقر روزناموں سے وابستہ رہے
مرحوم پسماندگان میں اہلیہ اور تین بچے ہیں۔ مرحوم کی نعش کو بانسواڑہ کے پی ایس آر جرنلسٹ کالونی واقع ان کے مکان پر آخری دیدار کے لیے رکھا گیا ہےمرحوم کے انتقال پر بانسواڑہ کے رکن اسمبلی، مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین، TUWJ (IJU)، پریس کلب اور عوامی تنظیموں نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔اس موقع پر TUWJ (IJU) ضلع صدر رجنتی کانت، ضلع سکریٹری توٹا راجیش، الیکٹرانک میڈیا صدر سرینواس، سکریٹری سدھاکر گوڑ، ریاستی ایگزیکٹو ممبر ایس اے لطیف، ایکریڈیشن کمیٹی ارکان معین الدین، چندر شیکھر، احمد محی الدین، نجم الدین، سلیم، احمد، یونس، اور دیگر نے تعزیت پیش کی۔صدررجنتی کانت نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ ورا پرساد جیسے بے باک اور اصول پسند صحافی کا کھونا بانسواڑہ کی صحافت کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں میڈیا اکیڈمی چیئرمین سرینواس ریڈی اور ایم ایل اے پوچارم سرینواس ریڈی نے ان کی عیادت کی تھی۔ TUWJ متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر ممکن مدد کی جائے گی۔


Post a Comment