ماں باپ دونوں کا سایہ اٹھ گیا، معصوم یتیم بچیوں کی مدد کے لیے اہل خیر سے دردمندانہ اپیل
بانسواڑہ،کےذمہ داروں کا دورہ کندر پلی
نامہ نگار احمد محی الدین
یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنا اور ان کی ہر لحاظ سے مدد کرنا اللہ کے یہاں بہت بڑا مرتبہ ہے۔ بچکندہ منڈل کے کندرپلی گاؤں سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کا چند روز قبل بانسواڑہ سرکاری دواخانہ میں اچانک انتقال ہو گیا، جس کے بعد ان کی دو معصوم لڑکیاں یتیم ہو گئیں۔بتایا جا رہا ہے کہ ان بچیوں کے والد کا ایک سال قبل سانپ کے کاٹنے سے انتقال ہو چکا تھا۔ ماں کی وفات کے بعد ان بچیوں کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں رہا۔اج بانسواڑہ کے چند ذمہ دار احباب کا ایک وفد بچیوں کے حالات معلوم کرنے کے لیے کندرپلی پہنچے تو پتہ چلا کہ وہ اپنی نانی کے پاس مینور گاوں میں رہ رہی ہیں۔ ذمہ دار احباب کندرپلی مسجد کمیٹی کے صدر عین الدین اور کندرپلی کے کونسلر گنگا دھر کے ہمراہ مینور پہنچے۔وہاں بچیوں کے حالات دیکھ کر ذمہ داران غمزدہ ہو گئے، کیونکہ ان کی ضعیف نانی کی عمر تقریباً 80 سال زیادہ ہے ، رہنے کے لیے پکا مکان نہیں ہے اور سونے کے لیے بھی مناسب انتظام نہیں ہے۔اس موقع پر شادی خانہ چیئرمین حافظ عبدالوہاب صاحب، بلدیہ کونسلر خلیل خان، سینئر صحافی معین الدین اور احمد محی الدین نے بچیوں سے بات کی تو بچیوں نے تعلیم حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی، جس کے لیے انتظام کیا جا رہا ہے۔گزشتہ دنوں کچھ اہل خیر حضرات نے ان دونوں ذمہ داران سے رابطہ کر کے مالی مدد بھی کی تھی، جس پر ذمہ داران نے ان کا شکریہ ادا کیا۔لہٰذا اہل خیر حضرات سے پرزور گزارش کی جاتی ہے کہ ان یتیم بچیوں کی کفالت کے لیے اور ان کے روشن مستقبل کے لیے جتنا ہو سکے مدد کریں۔مدد کے لیے رابطہ کریں:
*سینئر صحافی معین الدین: 9951907862*
*بلدیہ کونسلر خلیل خان: 7989949872*




Post a Comment