Top News

پیامِ سیرت کے زیر اہتمام و قرآنی مکاتبِ بانسواڑہ کے زیرِ انتظام انعامی جلسۂ سیرت خاتم الانبیاء ﷺ کویز کا کامیاب انعقاد



پیامِ سیرت کے زیر اہتمام و قرآنی مکاتبِ بانسواڑہ کے زیرِ انتظام انعامی جلسۂ سیرت خاتم الانبیاء ﷺ کویز کا کامیاب انعقاد

جامع مسجد مرکز بانسواڑہ میں

نامہ نگار احمد محی الدین

پیامِ سیرت کے زیرِ اہتمام اور قرآنی مکاتبِ بانسواڑہ کے زیرِ انتظام انعامی جلسۂ سیرت خاتم الانبیاء ﷺ کویز کا شاندار انعقاد عمل میں آیا، جس میں شہر بانسواڑہ کے سات مکاتبِ دینیہ کے طلبہ نے حصہ لیا۔ اس سیرت کوئز میں 100 سے زائد طلبہ نے شرکت کی، جو سیرتِ طیبہ ﷺ سے طلبہ اور نئی نسل کی دلچسپی کا واضح ثبوت ہے

جلسہ کی نظامت کے فرائض مفتی نوید صاحب نے سنبھالا

حافظ جنید سلمہ کی  قرأت اور حافظ انتظار صاحب کی نعت پاک کے ذریعے سے جلسے کا اغاز کیا گیا 

ماشاءاللہ طلباء نے بھی اپنی مافی الضمیر کو اچھے انداز میں ادا کیا

جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مفتی عمر بن عیسیٰ قاسمی، ناظم مدرسہ عبداللہ بن عباسؓ نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ نہایت قابلِ ستائش کارنامہ ہے کہ آپ حضرات نے ماہِ ربیع الاول کی مناسبت سے سیرتِ طیبۂ رسول اکرم ﷺ سے متعلق تقریباً سو سوالات پر مشتمل کتابچہ محنت و شوق کے ساتھ یاد کیا اور پھر امتحان کے ذریعے اپنے حاصل کردہ علم کو مزید پختہ کیا

*حضرت مفتی عمر صاحب* نے طلبہ کو قیمتی نصیحتوں سے بھی نوازا اور انہیں سیرتِ رسول ﷺ کو صرف پڑھنے اور یاد کرنے کے بجائے اپنی عملی زندگی میں اپنانے کی ترغیب دی۔ خطاب کے اختتام پر حضرت نے پروگرام کی انتظامیہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے مستقبل میں اس طرح کے دینی و تعلیمی پروگراموں کو مزید وسعت دینے کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار فرمایا

اس موقع پر مولانا اعجاز صاحب نے بھی اپنے ہمت افزا کلمات سے طلبہ اور منتظمین کی حوصلہ افزائی کی اور مستقبل میں اس دینی و تعلیمی کام کو مزید وسیع پیمانے پر آگے بڑھانے کے لیے اپنے بلند عزائم اور تعاون کا اظہار فرمایا





مہمان خصوصی حضرت مولانا رضوان القاسمی کا فکر انگیز خطاب

انعامی جلسہ سے خصوصی خطاب کے لیے حضرت مولانا رضوان القاسمی صاحب کو مدعو کیا گیا تھا۔ حضرت نے اپنے خطاب میں موجودہ پرفتن دور میں اپنی اولاد اور نئی نسل کے ایمان و اسلام کی حفاظت کے سلسلے میں نہایت اہم اور فکر انگیز باتیں بیان فرمائیں

حضرت نے بالخصوص حضرت یعقوب علیہ السلام کی اپنی اولاد کے ایمان و عقیدے کے بارے میں فکر کا تذکرہ کرتے ہوئے والدین کو اپنی اولاد کی دینی تربیت اور ایمان کی حفاظت کی طرف متوجہ فرمایا۔ اسی طرح اکبر الہ آبادی کے اشعار اور ان سے متعلق واقعات کے ذریعے یورپی تہذیب و ثقافت سے متاثر ہونے والی نسل کے حوالے سے نہایت مؤثر انداز میں توجہ دلائی اور امت کے نونہالوں کے ایمان و اسلامی تشخص کی حفاظت کے لیے فکر کو مزید بیدار کرنے کی ضرورت پر زور دیا

مولانا رضوان القاسمی صاحب نے مدرسہ سراج العلوم کی خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ شہر کا تقریباً 45 سالہ قدیم دینی ادارہ ہے۔ اس ادارے سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ نے مختلف بڑے دینی مدارس میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی، جن میں دارالعلوم دیوبند سے عالمیت و افتاء کی تعلیم حاصل کرنے والے متعدد فضلاء بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس ادارے کے فارغین آج شہر بھر میں مساجد کی امامت، مدارس اور مکاتب کی تدریس و خدمت جیسے دینی امور انجام دے رہے ہیں

حضرت مولانا رضوان القاسمی صاحب نے اس دینی و تعلیمی سلسلے کی خدمات کو سراہتے ہوئے مفتی محمد سفیان قاسمی صاحب اور حافظ محمد عثمان صاحب کی خدمات کی دل کھول کر پذیرائی فرمائی اور ان کے لیے مزید ترقی و استقامت کی دعائیں فرمائیں

معزز علماء و ذمہ داران کی شرکت

اس موقع پر  متعدد علماء و ذمہ داران بھی موجود تھے، جن میں:

مولانا محبوب صاحب، مولانا ربانی صاحب، مفتی محمد نوید صاحب، مولانا رفیق صاحب، مفتی غوث صاحب، مولانا عبدالعزیز صاحب، حافظ شکیل صاحب  حافظ انتظار صاحب  مولانا احمد صاحب اور جناب الحاج رضوان صاحب، صدر تنظیم المساجد بانسواڑہ قابلِ ذکر ہیں

شہر کے تمام مکاتبِ دینیہ کے ذمہ داران میں بالخصوص مولانا عبدالعزیز صاحب قاسمی اور حافظ محمد شکیل احمد صاحب کی نگرانی و تعاون بھی اس دینی و تعلیمی سرگرمی میں نمایاں رہا۔

طلبہ میں انعامات کی تقسیم

جلسہ کے اختتام پر سیرتِ خاتم الانبیاء ﷺ کے امتحان میں حصہ لینے والے طلبہ کو ان کی حوصلہ افزائی کے لیے معیاری اور قیمتی انعامات سے نوازا گیا۔ اس موقع پر مہمان علماء کرام اور معزز شخصیات کی رومال پوشی بھی کی گئی







پروگرام کے منتظمین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ نئی نسل کو سیرتِ رسول اکرم ﷺ، قرآن کریم اور اسلامی تعلیمات سے جوڑنے کے لیے ایسے تعلیمی، تربیتی اور اصلاحی پروگرام آئندہ بھی تسلسل کے ساتھ منعقد کیے جائیں گے

1 تعليقات

إرسال تعليق

أحدث أقدم