جس کا کوئی نہیں اس کا تو خدا ہے یارو
معصوم بچی نے اپنی ماں کی میت کو پکڑ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی ، اب ہمارا اس دنیا میں کوئی نہیں
نامہ نگار احمد محی الدین
خدا کا کرشمہ دیکھو پل بھر میں حالات کو بدل دیتا ہے دو معصوم بچیاں اپنے ماں کے گود میں کھیلتے ہوئے پل بھر کے اندر یتیم ہو گئے اور چھ سالہ معصوم بچی نے اپنے غم بھرے انداز میں یہ کہتے ہوئے رو پڑی کہ اب ہمارا اس دنیا میں کوئی نہیں اس بچی کے اس الفاظ پر وہاں پر موجود سارے افراد نے غمزدہ ہو گئے ، بچکندہ منڈل کندر پلی کے رہنے والے 35 سالہ چاند بی نے اپنے چھ سالہ اور نو سالہ لڑکیوں کے ساتھ بانسواڑہ سرکاری دواخنے کو علاج کے لیے جمعرات کی شام ائے دوران علاج چاندبی کا جمعہ کی اول ساتوں میں انتقال ہو گیا ماں کے انتقال کے بعد یہ بچیاں رو رو کر غم سے نڈھال ہو گئی ہاسپٹل میں موجود غیر مسلمان عورتوں نے ان بچوں کو کھانا وغیر کھلا کر پرسہ دیا اس بات کی اطلاع بانسواڑہ جامع مسجد کمیٹی کو ملنے، پر بعد نماز جمعہ کمیٹی کے صدر رضوان سیکرٹری التمش اور ذمہ دارمقامی بلدیہ کونسلرز محمد خالد فیروز خان خلیل اور شادی خانہ چیئرمین حافظ عبدالوہاب صاحب نے ہاسپٹل پہنچکر میت کو غسل کفن دفن انتظام کرتے تدفین کے لیے کندر پلی لے گئے اس موقع پر معصوم یتیم بچوں نے ماں کی میت سے لپٹ کر رو رہے تھے ان کے اس غم کو دیکھ کر وہاں پر موجود افراد اشک بار ہو گئے اور چھ سالہ بچی نے یہ کہہ کر رو رہی تھی کہ اب ہمارا اس دنیا میں کوئی نہیں کیونکہ ایک سال قبل ان لڑکیوں کے والد کا سانپ کاٹنے کی وجہ سے انتقال ہوگا جس کے بعد والدہ کے سائے میں دو لڑکیاں پل رہی تھی اب ماں کا سایہ بھی اس دنیا سے جانے کے بعد یہ لڑکیاں یہ یتیم ہو گئے لہذا ذمہ دار احباب جس طرح سے خاتون کی میت کا تدفین کے لیے انتظام کیا ہے ان لڑکیوں کو بھی ہاسٹل یا اسکول میں تعلیم دلانے کا انتظام کرے تو بہتر ہوگا
(Video 👇)

إرسال تعليق