کلیان لکشمی، شادی مبارک اسکیموں میں فرضی دستاویزات کا گورکھ دھندا بے نقاب ، تین ملزمین گرفتار، فرضی سرکاری مہریں، کمپیوٹر آلات اور ڈیجیٹل شواہد ضبط
سرکاری فلاحی اسکیموں کا ناجائز فائدہ اٹھانے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی: “ایس پی ایم. راجیش چندر، آئی پی ایس”
کاماریڈی (سید کوثر علی کی رپورٹ)کاماریڈی ضلع پولیس نے کلیان لکشمی اور شادی مبارک جیسی سرکاری فلاحی اسکیموں میں فرضی تصدیقی دستاویزات تیار کرکے حکومت سے مالی امداد حاصل کرنے کے معاملہ کو بے نقاب کرتے ہوئے تین ملزمین کو گرفتار کرلیا۔ پولیس نے ملزمین کے قبضہ سے فرضی سرکاری ربڑ اسٹامپس، کمپیوٹر آلات، موبائل فونز اور اہم ڈیجیٹل شواہد برآمد کئے۔ضلع ایس پی ایم. راجیش چندر، آئی پی ایس نے کہا کہ سرکاری فلاحی اسکیموں کا غلط استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔تفصیلات کے مطابق 22 جولائی 2026 کو سرکاری ضلع اسپتال کاماریڈی میں آر ایم او کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر چنداری سنتوش نے پولیس سے شکایت کی کہ ان کے نام اور سرکاری عہدہ کا غلط استعمال کرتے ہوئے عمر کے تصدیقی سرٹیفکیٹس اور پہلی شادی کے سرٹیفکیٹس پر فرضی دستخط کئے گئے ہیں اور ان کی سرکاری ربڑ مہر کا بھی ناجائز استعمال کیا گیا ہے۔ ان فرضی دستاویزات کو کلیان لکشمی اور شادی مبارک اسکیموں کے تحت مالی امداد حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔شکایت پر مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ ایس پی ایم. راجیش چندر کی ہدایت پر کاماریڈی ڈی ایس پی مدھوسودن کی نگرانی میں کاماریڈی ٹاؤن پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او نرہری نے پولیس عہدیداروں اور عملہ کے ساتھ دو خصوصی تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دیں۔ ٹیموں نے تکنیکی شواہد، متعلقہ دستاویزات، ڈیجیٹل ریکارڈس اور دیگر معلومات کی بنیاد پر تحقیقات کو آگے بڑھایا۔قابل اعتماد اطلاع ملنے پر پولیس نے بھکنور گاؤں میں واقع لہری زیراکس اینڈ آن لائن سنٹر پر تلاشی لی۔ تحقیقات کے دوران اس معاملہ میں ملوث تین افراد کو حراست میں لے کر پوچھ تاچھ کی گئی، جس پر ملزمین نے جرم کا اقرار کیا۔
آن لائن سنٹر کے ذریعہ فرضی دستاویزات کی تیاریپولیس تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ بھکنور کے رہنے والے توڈینگلا راجا نریندر اور توڈینگلا راج لنگم اپنے آن لائن سروس سنٹر کے ذریعہ کلیان لکشمی اور شادی مبارک اسکیموں کے لئے درخواست دینے والے افراد سے شادی کے دعوت نامے، آدھار کارڈ، ذات، آمدنی، رہائش کے سرٹیفکیٹس اور دیگر ضروری دستاویزات حاصل کرتے تھے۔ ہر درخواست کے لئے ₹4,500 تا ₹5,000 تک سروس فیس وصول کی جاتی تھی۔
بعد ازاں سرکاری ضلع اسپتال میں آؤٹ سورسنگ ملازم کی حیثیت سے کام کرنے والے بوئنی پرساد کے ساتھ ملی بھگت کرتے ہوئے سرکاری طبی عہدیداروں کے نام سے فرضی دستخط کئے جاتے اور فرضی سرکاری ربڑ مہریں لگا کر عمر کے تصدیقی سرٹیفکیٹس، پہلی شادی کے سرٹیفکیٹس اور دیگر ضروری دستاویزات تیار کئے جاتے تھے۔ان دستاویزات کو اصلی سرکاری کاغذات ظاہر کرتے ہوئے کلیان لکشمی اور شادی مبارک اسکیموں کے لئے آن لائن درخواستیں داخل کی جاتی تھیں۔ پولیس نے ملزمین کے کمپیوٹر کی جانچ کے دوران اس سلسلہ میں اہم ڈیجیٹل ریکارڈس بھی حاصل کئے ہیں۔
گرفتار ملزمین میں
1. توڈینگلا راجا نریندر، ولد راج لنگم، ساکن بھکنور منڈل و گاؤں، ضلع کاماریڈی۔
2. توڈینگلا راج لنگم، ولد راجیا، ساکن بھکنور منڈل و گاؤں، ضلع کاماریڈی۔
3. بوئنی پرساد، ولد رام چندرم، ساکن بھکنور منڈل و گاؤں، ضلع کاماریڈی۔
شامل ہیں ایس پی نے بتایا کہ گرفتار ملزمین کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ پولیس کی تحقیقات جاری ہیں کہ کتنی فرضی درخواستیں داخل کی گئیں، حکومت کو کتنا مالی نقصان ہوا، متعلقہ استفادہ کنندگان کون ہیں اور اس معاملہ میں مزید کوئی افراد ملوث ہیں یا نہیں۔
کمپیوٹر، موبائل فونز اور فرضی مہریں ضبط
پولیس نے ملزمین کے قبضہ سے جرم میں استعمال ہونے والا کمپیوٹر سی پی یو، ایل سی ڈی مانیٹر، کی بورڈ، ماؤس، تین موبائل فونز، فرضی سرکاری ربڑ مہریں، اسٹامپ پیڈ، فرضی دستخط کے لئے استعمال کئے گئے قلم، کمپیوٹر میں محفوظ درخواستوں کے ڈیجیٹل ریکارڈس اور دیگر متعلقہ اشیاء ضبط کیں۔اس کیس کو تکنیکی شواہد کی مدد سے کامیابی کے ساتھ حل کرتے ہوئے ملزمین کو گرفتار کرنے پر ضلع ایس پی ایم. راجیش چندر، آئی پی ایس نے کاماریڈی ڈی ایس پی مدھوسودن، ٹاؤن ایس ایچ او نرہری اور پولیس عملہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے مبارکباد پیش کی


إرسال تعليق