جنگلاتی علاقوں میں رکن اسمبلی بانسواڑہ کا احتجاج بلز کی عدم ادائیگی پر حکومت اور وزیروں پر برہم

  (بانسواڑہ احمد محی الدین کی رپورٹ، ) 

 حلقے اسمبلی بانسواڑہ کے ورنی منڈل کہ سدھا پور گاؤں میں چند قبل  106 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک بڑے ریزروے کا کام شروع کیا گیا تھا اور اس ریزروے سے تقریبا 8 ہزار ایکڑ ذرائعی اراضی کو فائدہ ہوگا لیکن کچھ مہینوں سے اس ریزرو کا کام روک دیا گیا کیونکہ کانگرس حکومت انے کے بعد بلز کی اجرائی عمل میں نہیں لائی جا رہی اس بات کو لے کر رکن ا سمبلی بانسواڑہ پوچارام سری سینواس ریڈی کافی فکر مند تھے کئی کوشش کے بعد بلز کی عدم اجرائی پر رکن اسمبلی نے اج برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریزروے کے پاس احتجاج منظم  کرتے ہوئے بیٹھ گئے رکن اسمبلی نے کانگرس حکومت اور وزیروں پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ سینیئر رکن اسمبلی ہونے کے ناطے وزیروں کوپبلک کے کاموں کے لیے فون کیا جائے تو اس کا کوئی جواب نہیں ملتا اور نہ ہی وزیروں کی جانب سے فون اٹھا کر بات کی جاتی ہے اس طرح سے حکومت چلائی جاتی ہے کیا، سابقہ میں بھی 20 سال وزیر کی حیثیت سے پبلک کی فلاحی بہبود کے لیے کام کیا ہو لیکن اج  کانگرس حکومت میں موجود وزیروں نے جس طرح سے کام کیا کرتے ہیں بہت ہی افسوس کی بات ہے اگر اس طرح سے حکومت چلائی جائے تو عوام نے جس امید سے ووٹ دے کر، ہمیں منتقب کیا ہےاس امید کو پورا کیا جا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ بلز کی عدم اجرائی کی وجہ سے کنٹریکٹر کام کرنے سے خاصر ہو رہے ہیں اور کوئی بھی کام مکمل نہیں ہو رہے ہیں،اور اس بات کی اطلاع چیف منسٹر کو دینے کے باوجود بھی کوئی سننے کو راضی نہیں رکن ا سبلی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیروں،پر تنقید کی اور کہا کہ جب تک سدھا پور ریزرو کےبلز کی اجرائی عمل میں نہیں لائی جاتی یہاں سے نہیں اٹھیں گے بعد ازاں مطلقہ ریاست عہدے داروں کی مداخلت کے بعد دو دن کی مہلت لیتے ہوئےرکن اسمبلی نے گھر واپس ہو گئے




Post a Comment

Previous Post Next Post