Top News

مرکزی حکومت کی مزدور، کسان مخالف پالیسیوں کے خلاف 10 اگست کو “جیل بھرو” تحریک کامیاب بنانے کی اپیل

 

مرکزی حکومت کی مزدور، کسان مخالف پالیسیوں کے خلاف 10 اگست کو “جیل بھرو” تحریک کامیاب بنانے کی اپیل

کاماریڈی، 24 جولائی (سید کوثر علی): سی آئی ٹی یو، کسان سنگھ، زرعی مزدور سنگھ، پیشہ ور تنظیموں اور قبائلی تنظیموں نے مرکزی بی جے پی حکومت کی مزدور، کسان اور عوام مخالف پالیسیوں کے خلاف تحریکِ ترکِ ہند (Quit India Movement) کی روح کے تحت 10 اگست کو منعقد ہونے والی “جیل بھرو” تحریک کو بھرپور کامیاب بنانے کی اپیل کی ہے۔

کاماریڈی شہر میں واقع سی آئی ٹی یو ضلع دفتر میں منعقدہ ضلعی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سی آئی ٹی یو ضلع صدر چندر شیکھر، زرعی مزدور سنگھ کے ضلع سکریٹری نرسمہلو اور کسان سنگھ کے ضلع صدر موہن نے کہا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد مزدوروں کی جدوجہد سے حاصل شدہ حقوق کو کمزور کرتے ہوئے لیبر کوڈس نافذ کیے، جن سے کارپوریٹ اداروں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مزدوروں کے لیے کم از کم اجرت اور ملازمت کے تحفظ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے جبکہ ای پی ایف اور ای ایس آئی جیسے نظام کو بھی نجی شعبہ کے حوالے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔


مقررین نے کہا کہ آزاد تجارتی معاہدوں اور زرعی درآمدات میں اضافے کے باعث مقامی زرعی پیداوار کی قیمتیں گر گئی ہیں، جس سے کسان شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کپاس کی درآمدات میں اضافے سے بھی کسانوں کو نقصان پہنچا ہے۔

رہنماؤں نے مزید کہا کہ مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار ضمانت اسکیم میں تبدیلیاں کرکے ریاستوں پر اضافی مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے، جبکہ بجلی ترمیمی قانون کے ذریعے بجلی کے شعبے کی نجکاری کی راہ ہموار کی جا رہی ہے، جس سے مستقبل میں زرعی موٹروں پر میٹر نصب کرنے اور اضافی چارجس عائد کیے جانے کا خدشہ ہے۔

اجلاس میں ملک گیر احتجاجی پروگرام کے تحت 10 اگست کو ہونے والی “جیل بھرو” تحریک میں مزدوروں، کسانوں، زرعی مزدوروں، قبائلی عوام اور تمام محنت کش طبقات سے بڑی تعداد میں شرکت کرکے اسے کامیاب بنانے کی اپیل کی گئی۔

اجلاس میں بی۔ وینکٹی، دشرتھ، راجنرسو، نرسنگ راؤ، پربھو، سنتو، دیوینا، شیوا، راجووا، اندرا، اے۔ راجو، سنتوش، عباس، کرشنا، سائی اور دیگر قائدین و کارکنان نے شرکت کی

Post a Comment

أحدث أقدم