یس آئی آر کا جلوہ۔۔۔ بہار کے بعد بنگال بھی فتح ہو گیا
عدالت عظمی کا کردار! خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک
(محمد صمیم نظام آباد )
یس آئی آر کا جلوہ دیکھئے کہ بہار کے بعد اب بنگال بھی فتح ہو گیا۔ ہندوستانی جمہوریت جس کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہا جاتا تھا آج ایک تانا شاہ کے سائے میں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ ملک کی مختلف جمہوری سیاسی پارٹیاں اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ گجرات سے تعلق رکھنے والے سیاسی قائد کی سرکردگی میں مرکز میں بھاجپا سرکار قائم ہوئی اور اس کے بعد سے گجرات لابی کے اثرورسوخ میں اضافہ ہوا اس کے بعد سے ملک کے حالات تیزی سے تبدیل ہونا شروع ہوئے۔ گجرات لابی نے ملک کے مختلف اداروں کو اپنے زیر اثر لایا۔ سنگھ اور بھاجپا نے سب سے پہلے بیوروکریسی کو اپنے رنگ میں رنگنے کا کام کیا آج بیوروکریسی میں بھاجپا کا اثر کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ نیچے سے اوپر تک تمام بیوروکریسی میں بھاجپا و سنگھ کا اثر صاف دیکھا جاسکتا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ملک کی ای ڈی و سی بی آئی پر عام افراد کا بھروسہ کم ہو گیا۔ الیکشن کمیشن پر لوگ بھروسہ کر تے تھے کہ یہ غیر جانبدار ہے لیکن آج اس پر سے بھی عوام کا بھروسہ کم سے کم ہوتا جارہا ہے۔ بیوروکریسی کے بعد سنگھ و بھاجپا نے میڈیا کو اپنے زیر اثر لایا۔ اب ملک کے میڈیا کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ اس کی خبروں پر بھروسہ کرنا مشکل ہوگیا ہے وہ وہی کہتا ہے جو سنگھ یا بھاجپا اس سے کہلوانا چاہتی ہے ملک میں نفرت کو فروغ دینا اس کا واحد کام ہوگیا ہے بے شرمی کی تمام حدیں پار کرلی ہے دنیا میں ملک کے میڈیا کا وقار ختم ہو گیا اس کے باوجود میڈیا بھاجپا کی چاکری کر رہی ہے۔ بیوروکریسی اور میڈیا کے بعد سنگھ و بھاجپا نے عدالت کو بھی ایسا محسوس ہورہا ہے کنٹرول کر لیا ہے۔ چند سال پہلے پارلیمان میں حزب اختلاف کے قائد راہول گاندھی نے عدالتوں کے تعلق سے کہا تھا کہ ملک کی 50فیصدی عدالتیں مینیج ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ دہلی اروند کیجریوال نے دہلی عدالت عالیہ کی خاتون جج سے ہی راست کہا تھا کہ آپ سے انصاف کی امید نہیں ہے آپ میرا مقدمہ نہ سنیں لیکن اس کے باوجود جج نے درخواست مسترد کردی۔ اروند کیجریوال نے خاتون جج سے انصاف نہ ملنے کے خدشہ کے پیش نظر مقدمہ میں پیش ہونے سے ہی انکار کردیا اور وکیل بھی نہ رکھنے کا اعلان کر دیا یہ حالت ہوگئی ہے عدالتوں کی۔ حکومت سے اختلاف پر عدالتوں سے انصاف بھی مشکل ہوگیا ہے۔
بہار انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن کی جانب سے خصوصی نظر ثانی مہم (یس آئی آر) کا آغاز کیا گیا تب اس کے وقت اور طریقہ کار کے خلاف عدالت عظمیٰ میں درخواست پیش کی گئی۔ عدالت عظمیٰ تاریخ پہ تاریخ دیتی گئی یس آئی آر کے ذریعہ لاکھوں رائے دہندگان کے ناموں کا اخراج ہوا۔ زندہ افراد کو مردہ قرار دیتے ہوئے ناموں کا اخراج کیا گیا۔ عدالت عظمیٰ میں ایسے افراد کو پیش کیا گیا جن کا نام مردہ قرار دیتے ہوئے اخراج کیا گیا تھا۔ وہیں ایک ہی مکان میں کہیں 50 تو کہیں 100 تو کہیں اس سے زیادہ رائے دہندگان کو بتایا گیا وہیں کئی مکانات ایسے بھی تھے جہاں ہندو مسلم دونوں رہتے تھے۔ اور ہزار ہا رائے دہندگان ایسے بھی تھے جن کا مکان ہی نہیں تھا یہ سب یس آئی آر کے نام پر کیا گیا۔ یس آئی آر جاری تھا عدالت عظمیٰ تاریخ پہ تاریخ دیتی چلی گئی بہار کے انتخابات کا انعقاد بھی ہو گیا بھاجپا کو کامیاب کر دیا گیا۔ یس آئی آر نے بہار میں جلوہ دکھا دیا۔ بہار میں الیکشن کمیشن حزب اختلاف کو شکست دینے میں کامیاب ہوگیا عدالت عظمیٰ میں ناکام نہ ہونے پر ( کیونکہ فیصلہ ابھی نہیں آیا) الیکشن کمیشن نے ملک میں اسی تسلسل کو آگے بڑھاتا گیا۔ اب اسکا نشانہ بنگال و جنوبی ہند کی ریاستیں تھیں جہاں اسمبلی انتخابات منعقد ہونے والے تھے۔ بنگال میں یس آئی آر کے دوران کئی ہلاکتیں ہوئیں۔ کئی افراد نے خودکشی کرلی۔ بنگال میں ممتا نے گلی سے دہلی تک مقابلہ کیا۔ عدالت عظمیٰ بھی گئیں۔ قریب 91 لاکھ رائے دہندگان کے ناموں کو حذف کیا گیا جن کی اکثریت مسلم و خواتین تھیں۔ انتخابات کا انعقاد ہوگیا اور بھاجپا کو فتح دلا دی گئی الیکشن کمیشن کی جانب سے۔ عدالت عظمیٰ کے کردار کے تعلق سے بقول غالب یہی کہا جاسکتا ہے
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک
بیوروکریسی کو قابو میں کرنے سے ادارے خود بخود قابو میں آگئے کوئی ایک ادارہ بھی اب باقی نہیں رہے گیا ہے۔ دھاندلی کی انتہا کی جا رہی ہے۔ کوئی انہیں روکنے والا نہیں ہے۔ جموں وکشمیر اور آسام میں اسمبلی حلقوں کی از سرنو حد بندی کی گئی تا کہ ایک مخصوص پارٹی کو انتخابات میں فتح دلائی جاسکے۔ مسلم رائے دہندوں کے اثر و رسوخ کو کم سے کم کرنے کی مکمل کوشش کی گئی جموں میں کم ابادی کے ہندو علاقوں پر مشتمل ایک اسمبلی حلقہ بنا دیا گیا وہیں مسلم ابادی والے علاقہ میں ڈیڑھ یا دو گناہ زیادہ ابادی پر اسمبلی حلقہ بنایا گیا۔ کوشش یہ کی گئی کہ کسی طرح ایک مخصوص پارٹی کو زیادہ سے زیادہ نشستیں دلائی جاسکے۔ آسام میں مسلم ابادی والے علاقوں کی تعداد کو کم کر دیا گیا ایک ایسی ریاست جہاں پر 35 سے 40 فیصد ابادی مسلم ہے وہاں پر مسلم غلبہ و اثر والے اسمبلی کی تعداد کو کم کر دیا گیا وجہ ظاہر کس پارٹی کو جتانا چاہتے ہیں اور یہ سب بیوروکریسی کے ذریعہ قانونی طور پر غیر قانونی کام کیا گیا اور حکومت بھی حاصل کرلی۔
ملک کے انتخابات کی شفافیت پر اب کوئی سوالیہ نشان نہیں اج ملک کے انتخابات کو شفاف کہا ہی نہیں جاسکتا۔ مہاراشٹر، دہلی۔ ہریانہ، بہار، بنگال، تامل ناڈو وغیرہ کے انتخابات کو شفاف کہنا مشکل ہے۔ الیکشن کمیشن کو غیر جانبدار نہیں کہا جاسکتا الیکشن کمیشن حکومت کا نہیں بلکہ ایک تانا شاہ ایک پیادہ بن گیا ہے۔ ایک ایسا تانا شاہ جو ملک پر مکمل قبضہ چاہتا ہے۔ ماضی قریب دنیا میں جتنے بھی آمر گزرے ہیں ان سب نے اقتدار میں آنے کے لئے جمہوریت کا سہارا لیا اقتدار پر قابض ہونے کے بعد ملک کے اداروں کو اپنے ماتحت کرلیا۔ جرمن کا ہٹلر ہو کہ اٹلی کا مسولینی سب نے جمہوریت کے راستہ ہی اقتدار پر قبضہ کیا۔ آج ملک کا سب سے بڑا تانا شاہ بھی اسی ڈگر پر شاید نکل چلا ہے۔ ملک کے تقریباً ادارے اس کے اشاروں پر رقصاں ہیں۔ عوام کا آخری سہارا عدلیہ ہوتی تھی اب وہاں سے بھی انصاف کے تقاضوں کی تکمیل کرتے ہوئے فیصلے کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ بابری مسجد کی زمین کا فیصلہ ہو کہ افضل گرو کا فیصلہ ہو۔ کشمیر میں دفعہ 370 کی تنسیخ کا فیصلہ ہو ایک لمبی فہرست ہے جہاں پر دیکھا جاسکتا ہے کہ فیصلوں میں انصاف کا گلا گھونٹ دیا گیا۔ اگر عوام کا ملک کے اداروں پر سے اعتماد اٹھ گیا تب یہ ملک و قوم کے لئے بہتر نہیں ہو گا۔ حکومت سازی میں عوامی رائے کو قابو میں کرتے ہوئے اپنی من پسند جماعت کو اسی طرح اقتدار حوالے کیا جاتا رہے گا تب عوام کا انتخابات پر سے ہی اعتبار اٹھ جائے گا اور الیکشن کمیشن پر سے اعتماد مکمل ختم ہو جائے گا۔ پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں برسر اقتدار پارٹی کی انتخابی دھاندلیوں کے خلاف وہاں کی حزب اختلاف نے دس سال تک انتخابات کا بائیکاٹ کیا اس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے آج شیخ حسینہ ہندوستان میں پناہ گزیں بن کر رہ رہی ہیں۔ جس طرح ملک میں انتخابی دھاندلی کی جارہی ہے اور اس کے لیے اداروں کو استعمال کیا جارہا ہے وہ سب کے سامنے ہیں۔ کیا ہندوستان کی حزب اختلاف پارٹیاں انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کی ہمت اپنے اندر رکھتی ہیں۔ اگر حزب اختلاف انتخابات کا بائیکاٹ کر نے کی ہمت نہیں کرتے تب یقین جانئیے 2029 کے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی 400 کا ہندسہ عبور کر لے گی اور کوئی پارٹی اس کا مقابلہ نہیں کر سکے گی۔ اب عوام کی اہمیت ہی نہیں رہے گی کیونکہ انتخابی دھاندلی اداروں کے ساتھ مل کر مکمل قانون کے دائرے میں رہ کر کی جائے گی اور عدالتیں اس پر مہر ثبت کریں گی۔
.jpeg)

Post a Comment