Top News

کویتا کیا بنے گی۔۔۔ لکشمی پاروتی یا وائی یس شرمیلا

 

نئی سیاسی جماعت تلنگانہ راشٹرا سینا کا قیام 

کویتا کیا بنے گی۔۔۔ لکشمی پاروتی یا وائی یس شرمیلا

(محمد صمیم   نظام آباد)

     تلنگانہ ریاست میں گزشتہ ماہ ایک نئی سیاسی پارٹی کا وجود عمل میں ایا۔ سابق ریاستی وزیر اعلیٰ و صدر بھارتیہ راشٹر سمیٹی ( بی آر یس ) کی دختر و سابق رکن پارلیمان و کونسل کے کویتا نے 25/ اپریل 26ء کو حیدرآباد کے مضافات میں منعقدہ ایک بڑے جلسہ عام میں نئی سیاسی پارٹی کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کا نام تلنگانہ راشٹرا سینا (TRS)  رکھا۔ گزشتہ سال بی آر یس سے معطل کئے جانے کے بعد کویتا کی جانب سے پہلے ہریش راؤ و دیگر قائدین کو نشانہ بنایا گیا اور اپنے بھائی و پارٹی کارگزار صدر کے ٹی راما راؤ کے خلاف خاموشی اختیار کی گئی چند ماہ کے بعد کے ٹی آر پر بھی تنقید شروع کی گئی اپنے والد پارٹی صدر و بانی چندر شیکھر راؤ پر کویتا نے کبھی تنقید نہیں کی۔ البتہ ہمیشہ مفاد پرست عناصر کے گھیرے میں گھیرے رہنے کا الزام لگاتی رہی پارٹی کے قیام کے دن اپنے خطاب میں اپنے والد بی آر ایس سربراہ سابق وزیرِ اعلیٰ کے چندرشیکھر راؤ پر شدید تنقید کی اور یہاں تک کہہ دیا کہ وہ اب پہلے کی طرح نہیں رہے۔ کویتا نے پارٹی کے قیام کا مقصد واضح کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ تحریک" کے نظریات کو واپس لانے اور ریاست میں ایک نئے سیاسی انقلاب کی شروعات ہے اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جس تلنگانہ کا خواب دیکھا گیا تھا وہ ابھی تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوا ہے۔ بقول فیض احمد فیض

یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر

وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں

  


       کے کویتا کی نئی سیاسی پارٹی تلنگانہ میں واقعی ایک انقلاب پیدا کرے گی یا یہ صرف چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرے گی؟ ملک میں خاتون سیاست دانوں کی ایک بڑی تعداد ہے جن میں بعض کامیاب تو وہیں بعض ناکام ہوئی ہیں۔ اندرا گاندھی سے ممتا تک کامیابی کا ایک بڑا قافلہ ہے وہیں پاروتی سے شرمیلہ تک ناکامیابی کا بھی ایک سلسلہ ہے۔ تلنگانہ ریاست کے قیام کی تحریک کے ابتداء کے وقت کے کویتا اپنے شوہر کے ساتھ امریکہ میں مقیم تھیں انہوں نے امریکہ سے واپسی کے بعد تلنگانہ تحریک میں راست تلنگانہ راشٹر سمیٹی کے بجائے اپنی ایک سماجی تنظیم تلنگانہ جاگروتی کے ذریعہ متحریک و شناخت کے حصول میں مصروف رہی۔ تلنگانہ ریاست کی تشکیل اور ٹی آر یس کے اقتدار میں آنے کے بعد وہ نظام آباد کی رکن پارلیمان منتخب ہوئیں وہ اپنے کام سے اپنی پہنچان بنانے میں کامیاب نہ ہوسکی۔ البتہ وزیر اعلیٰ کی بیٹی کی وجہ سے انہیں تلنگانہ کی بیٹی کہا جانے لگا وہیں نوجوانوں میں"اکا" یعنی بہن کے نام سے پکارا جانے لگا۔ ان کی شناخت وزیر اعلٰی کی دختر سے زیادہ نہیں بن پائی۔ نظام آباد کی رکن پارلیمان کی حیثیت سے کوئی نمایاں کارکردگی دکھانے میں ناکام رہیں۔ دوسری مرتبہ منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں منتخب نہ ہو سکی۔ نئی سیاسی پارٹی کی افتتاحی تقریب میں "بیٹی" و "اکا" سے "اماں" پکارا گیا۔ کویتا کا سیاست میں تلنگانہ بیٹی سے تلنگانہ اماں تک کا سفر کی کہانی صرف اپنے والد کے گرد ہی گھومتی ہے۔

          ایک نئی سیاسی پارٹی کا قیام کسی بھی قائد کا حق ہے۔ پارٹی کا قیام کرلینا ہی کافی ہے؟ اس کے بعد اس پارٹی کو چلانے کے لئے اخراجات کہاں سے لائیں گے؟ کیا کے کویتا اتنی مالی حیثیت رکھتی ہیں کہ وہ آسانی سے پارٹی کو چلانے کے اخراجات کا انتظام کر سکے گی؟ یا کے کویتا کو تلنگانہ میں پارٹی کے اخراجات کو کوئی دوسری پارٹی یا گروہ فراہم کر رہا ہے؟ یہ اصل سوال ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کی نگاہیں دو بڑی سیاسی پارٹی پر اشارہ کر رہی ہے ایک تلنگانہ میں برسر اقتدار ہے۔ کویتا کی جانب سے ایم ایل سی سے استعفیٰ کے باوجود استعفیٰ منظور نہ کیا جانا اور کونسل میں کویتا کو تقریر کا موقع دینا پھر اس کے بعد استعفیٰ منظور کیا جانا بہت کچھ کہتا ہے کہ دال میں کالا ضرور ہے۔ دوسری پارٹی مرکز میں برسرِ اقتدار ہے۔ جواب سمجھنا آسان ہے اگر الیکشن کمیشن کی جانب سے نام کی منظوری دی جاتی ہے تو سمجھ لیجئے کہ بی جے پی اس نئی پارٹی کے پیچھے کھڑی ہے تاکہ تلنگانہ میں اقتدار میں آنے کا خواب شرمندہ تعبیر کیا جاسکے اور اس کے لئے راستہ آسان ہو سکے۔  بی آر یس پارٹی کا سابقہ نام بھی ٹی آر یس (تلنگانہ راشٹریہ سمیتی )ہی تھا۔ اور نئی پارٹی کا نام بھی ٹی آر یس ( تلنگانہ راشٹریہ سینا ) ہے۔ بی آر یس اس نام پر اعتراض کیا لیکن نام کو منظوری مل چکی ہے۔ یعنی الیکشن کمیشن نے بہت جلد ہی نام کی منظوری دے دی۔ ہندوستان میں موجودہ الیکشن کمیشن کا حال سب ہی جانتے ہیں۔ سب ہہ بھی جانتے ہیں کہ موجودہ الیکشن کمیشن کس کے اشاروں پر رقصاں ہے۔ بی جے پی کو انتخابات میں کامیاب کرانے کے لئے کس بے شرمی سے کاروائی کی جارہی ہے یہ سب جان چکے ہیں۔ جمہوریت کا جنازہ اگر آج ہندوستان میں بی جے پی نکال رہی ہے تو وہ صرف موجودہ الیکشن کمیشن کی وجہ سے ہی ممکن ہو رہا ہے۔ 

        کے کویتا اپنی نئی سیاسی اننگز میں کامیاب ہوسکے گی؟ متحدہ آندھرا اور تلنگانہ میں اس سے قبل دو خواتین نے سیاسی پارٹیوں کا قیام عمل میں لایا تھا ایک سابق وزیر اعلیٰ متحدہ آندھراپردیش این ٹی راما راؤ کی دوسری اہلیہ لکشمی پاروتی نے چندرا بابو نائیڈو سے اختلاف کے بعد نئی سیاسی پارٹی قائم کی اور دوسری خاتون سابق وزیر اعلیٰ متحدہ آندھراپردیش وائی یس راج شیکھر ریڈی کی دختر وائی یس شرمیلا نے والد کے انتقال کے بعد اپنے بھائی و سابق وزیر اعلٰی وائی یس جگن موہن سے اختلاف کے بعد تلنگانہ میں نئی سیاسی پارٹی کا قیام عمل میں لایا بعد ازاں کانگریس میں پارٹی کو ضم کردیا اور آندھرا پردیش کانگریس صدر بن گئی۔ پاروتی نے چندرا بابو کو اقتدار میں آنے سے نہیں روک سکی لیکن وائی یس شرمیلا نے وائی یس جگن موہن ریڈی کی شکست میں اپنا اہم کردار ادا کیا۔ کے کویتا متحدہ آندھرا پردیش میں تیسری اور تلنگانہ کی دوسری خاتون ہے جس نے سیاسی پارٹی کا قیام عمل میں لایا ہے۔ متحدہ آندھراپردیش و تلنگانہ میں علاقائی سیاسی پارٹیوں نے اقتدار پر فائز رہیں ہیں۔ متحدہ آندھرا پردیش میں پہلی علاقائی پارٹی کا قیام ین ٹی راما راؤ کی جانب سے عمل میں لایا گیا اس وقت کے سیاسی حالات کے پیش نظر وہ کامیاب ہو گئے تلگو عوام کے وقار کی بات انہوں نے کی جس کو عوام نے قبول کیا۔ تلنگانہ راشٹریہ سمیتی کا قیام تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے لئے عمل میں لایا گیا تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد عوام نے اس پارٹی کو دو مرتبہ اقتدار حوالے کیا۔ تلنگانہ جیسی چھوٹی ریاست میں کیا نئی سیاسی جماعت کی واقع ضرورت ہے؟ نئی سیاسی جماعت کے لئے کوئی خلاء ہے؟ نئی سیاسی جماعت عوام کی ضرورت ہے؟ اپنے ذاتی اختلافات کی وجہ بنائی گئی نئی سیاسی پارٹی کیا کامیاب ہو سکے گی؟ کے کویتا کی اپنی شناخت اتنی زیادہ ہے کہ وہ کوئی سیاسی جماعت کھڑا کر سکے۔ جس باپ کے طفیل وہ سیاست میں داخلہ لیا اس باپ کے خلاف ہی اب وہ کھڑی ہے حقیقت یہ ہے کہ تلنگانہ عوام کے لئے کے سی آر کی شخصیت آج بھی کشش رکھتی ہے۔ شرمیلا نے اپنے والد کے انتقال کے بعد بھائی سے اختلاف پر سیاسی پارٹی قائم کی لیکن کویتا نے اپنے والد کے خلاف ہی میدان میں آگئی ہے اس کے علاوہ آج تلنگانہ میں کسی علاقائی پارٹی کے لئے سازگار ماحول بھی نہیں ہے کوڈانڈا رام کی پارٹی کا حال سب جانتے ہیں کانگریسی بھیک پر یم یل سی بنے بیٹھے ہیں۔

       ملک کی سیاست میں بی جے پی کو شمالی تلنگانہ کی پارٹی کہا جاتا ہے رام مندر احتجاج کے دوران جنوبی ہند میں پارٹی کو مضبوط بنانے میں سنگھ نے بہت زیادہ محنت کی جس کی وجہ سے وہ کرناٹک میں اقتدار بھی حاصل کی تھی لیکن کرناٹک سے آگے وہ نہیں جاسکی۔ آندھرا میں سیکولر منافق چندرابابونائیڈو نے بی جے پی سے اتحاد کیا وہاں پر بھی اس کا کوئی خاص اثر نہیں ہے۔ البتہ بی جے پی تلنگانہ میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کی سعی و جہد میں مصروف ہے۔ تلنگانہ اسمبلی میں بی آر یس کی ہار کے بعد بی جے پی اصل حزب اختلاف کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی۔ پارلیمان میں عوام یا الیکشن کمیشن ان دو میں سے ایک کی تائید سے 8 ارکان پارلیمان منتخب ہوئے جبکہ بی آر یس کا ایک بھی رکن پارلیمان منتخب نہ ہو سکا اس کے بعد بی جے پی اپنے آپ کو اصل حزب اختلاف سمجھنے لگی لیکن مقامی اداراہ جات ، بلدی و کارپوریشن کے انتخابات کے بعد عوام نے کانگریس کے بعد بی آر یس کے امیدوں کو سب سے زیادہ منتخب کیا وہیں بی جے پی کو ہاشیہ پر لادیا۔ کویتا کی نئی سیاسی پارٹی کا قیام دراصل بی آر یس ہے رائے دہندگان میں سیندھ لگانے کی سعی ہے تا کہ اس سے بی جے پی فایدہ اٹھا سکے۔ بی آر یس سربراہ کے سی آر کیا اس صورتحال سے نبردآزما ہوسکیں گے؟ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ تلنگانہ کی سیاست میں کویتا کیا بنے گی لکشمی پاروتی یا وائی یس شرمیلا ؟



Post a Comment

Previous Post Next Post